5 اگست، 2026، 6:48 PM

میناب حملے کی وجہ سے ٹرمپ کو زور دار تھپڑ مارنے کو دل چاہتا ہے، امریکی تجزیہ کار

میناب حملے کی وجہ سے ٹرمپ کو زور دار تھپڑ مارنے کو دل چاہتا ہے، امریکی تجزیہ کار

امریکی معروف تجزیہ کار نے صدر ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے میناب کے شجرہ طیبہ گرلز اسکول پر بمباری کی ذمہ داری قبول کی، نہ معافی مانگی۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق معروف امریکی صحافی اور سیاسی تجزیہ کار ٹکر کارلسن نے ایران پر امریکی حملوں کے دوران میناب کے شجرہ طیبہ گرلز اسکول پر ہونے والی بمباری کی شدید مذمت کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ٹکر کارلسن نے اپنے حالیہ یوٹیوب پروگرام میں کہا کہ جنگ کے دوران جب انسانیت کو فراموش کر دیا جائے اور انسانوں کو صرف اپنے مقاصد کی راہ کی رکاوٹ سمجھا جائے تو درحقیقت انسان شیطانی طرز عمل اختیار کر لیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ اور امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسٹ نے نہ صرف اس حملے پر معافی نہیں مانگی بلکہ ابتدا میں اس کی ذمہ داری سے بھی انکار کرنے کی کوشش کی۔

کارلسن نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے ایک لڑکیوں کے اسکول پر بمباری کی اور معافی مانگنے تک کو تیار نہیں ہوا، میرا دل چاہتا ہے کہ اس کے منہ پر ایک زور دار تھپڑ ماروں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے لیے یہ یقین کرنا انتہائی مشکل اور صدمہ خیز ہے کہ ایک لڑکیوں کے اسکول کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل برطانوی نشریاتی ادارے اسکائی نیوز نے اپنی 49 منٹ کی تحقیقاتی دستاویزی فلم "ایران کے اسکول پر بمباری؛ سچ کی تلاش" میں اس واقعے کا جائزہ لیتے ہوئے سات آزاد فوجی، انٹیلی جنس اور اسلحہ کے ماہرین کی تحقیقات، سیٹلائٹ تصاویر اور جائے وقوع سے ملنے والے شواہد کی بنیاد پر امریکی فوج کو شجرہ طیبہ اسکول پر حملے اور وہاں بچوں کی شہادت کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔

News ID 1940559

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha